( رپورٹ : کامران خان بونیری ) محکمہ جنگلی حیات سندھ شکار سیزن کی میزبانی
کو تیار ہے، محکمہ جنگلی حیات سندھ نے آئندہ ماہ شکار کی اجازت دیدی،سیکرٹری
جنگلات وجنگلی حیات شکار سیزن کی اجازت کا نوٹی فکیشن بھی جاری کرچکے ہیں، نوٹی فکیشن
کے مطابق سندھ کے 21 اضلاع میں شکار سیزن کا آغاز یکم نومبر 2020 سے ہوگا، اجازت
وائلڈ لائف پروٹیکشن، کنزرویشن، پروجیکشن اور مینجمنٹ ایکٹ کی شق 43 (2) کے تحت دی
گئی ہے، نوٹی فکیشن میں پرندوں کی اقسام، تعداد، شکار کے وقت، جگہ اور طریقہ کار
کا بھی تعین کیا گیا ہے، خلاف ورزی پر سخت محکمہ جاتی کارروائی کی جائے گی، نوٹی
فکیشن کے مطابق تیتر کے شکار سیزن کا آغاز یکم نومبر 2020 بروز اتوار جبکہ اختتام
31 جنوری 2021 بروز اتوار کو ہوگا، لائسنس یافتہ شکاری صرف اتوار کے روز تیتروں کا
شکار کرسکیں گے، اس طرح مختلف اقسام کی بطخوں کے شکار سیزن کا آغاز یکم نومبر
2020 جبکہ اختتام 28 فروری 2021 کو ہوگا، اس شکار کیلئے ہفتے اور اتوار کے دن کا انتخاب کیا گیا ہے، بٹیر کے شکار کا
آغاز یکم نومبر 2020 جبکہ اختتام 28 فروری 2021 کو ہوگا، بٹیر کے شکار کیلئے ہفتے
کے 7 دن اجازت دی گئی ہے، نوٹی فکیشن کے مطابق اس بار سندھ کے 21 اضلاع میں شکار سیزن
کی اجازت دی دی گئی ہے، ایک لائسنس پر ایک بار 10 تیتر، 40 بٹیر، مختلف اقسام کی
15 بطخوں کے شکار کی اجازت ہوگی، نوٹی فکیشن میں اس بار 22 اضلاع میں شکار کی
اجازت دی گئی ہے، جن میں حیدرآباد، میرپورخاص، جامشورو، ٹنڈو محمد خان، ٹنڈوالہیار،
نواب شاہ، بدین، سجاول، ٹھٹھہ، دادو، سانگھڑ، مٹیاری، لاڑکانہ، قمبر شہداد کوٹ، خیرپور،
سکھر، گھوٹکی، نوشہرو فیروز، جیکب آباد، کشمور، کراچی کا ضلع ملیر اور ضلع غربی
بھی شامل ہے، کیرتھر نیشنل پارک، گیم ریزو ایریاز، وائلڈ لائف سنکچریز کے ساتھ
کنٹونمنٹ ایریاز اور پی اے ایف بیس بھولاری کے اطراف بھی شکار کی سخت ممانعت ہے،
ماضی میں شکار سیزن کے دوران بڑی شکار گاہ کے حامل تھرپارکر اور عمرکوٹ میں بھی
شکار پر سخت پابندی عائد کی گئی ہے، رابطہ کرنے پر محکمہ جنگلی حیات میرپورخاص ڈویژن
کے ڈپٹی کنزرویٹر میر اعجاز تالپور نے بتایا کہ تھر اور عمر کوٹ میں شکار پر پابندی
پر سخت سے عملدرآمد کراوں گا، ممنوعہ ایریاز میں شکار کرنے والوں کے خلاف محکمہ
جاتی کارروائی کی جائے گی، کورٹ میں چالان بھی ہوگا، انہوں نے کہا کہ تھرپارکر میں
غیرقانونی شکار پر کافی حد تک قابو پایا جاچکا ہے، جنگلی حیات، انسانی حیات کیلئے
ناگزیر ہے، اس کی حفاظت اولین ترجیح ہے، جس کیلئے دن، رات کام کررہے ہیں، انہوں نے
مزید بتایا کہ ضلع کے داخلی و خارجی راستوں
کے ساتھ ساتھ دیگر مقامات پر بھی خفیہ نگرانی کا عمل بھی جاری ہے، ٹیم ورک میں کام
کررہے ہیں، وہ دن دور نہیں، جب ضلع تھرپارکر میں چرند، پرند غیرقانونی شکاریوں کے
خوف سے مکمل آزاد ہوں گے۔۔
