سماجی فلاح و بہبود کی عالمی تنظیم صارم برنی ویلفیٸر ٹرسٹ جو روز اول
سے بلا معاوضہ دکھی انسانیت کے دکھوں کا مداوا،خدمت
اور قانونی مدد کرنے کے باوجود قانونی مدد سے محروم ہے، اس ضمن میں صارم برنی ویلفیٹر
ٹرسٹ کے چیٸرمین صارم برنی نے اپنے دفتر سے جاری بیان میں کہا ہے کہ تین ماہ میں
ہمارے ٹرسٹ کے ارد گرد یہ تیسری واردات ہوچکی ہے۔گزشتہ دنوں صارم برنی ٹرسٹ کے
دفتر کے نیچے فائرنگ کا واقعہ پیش آیا لیکن FIR درج کروانے کے باوجود مُلزمان تاحال دندناتے پھر رہے ہیں،انہوں نے کہا
کہ دوسری درخواست پرانی سبزی منڈی کے علاقے کے بھتہ خور کیخلاف دی گئی لیکن اس پر
بھی اب تک کوئی عمل درآمد نہیں ہو سکا اور آج پھر صارم برنی ٹرسٹ کے مرکزی دفتر کے
نیچے ٹرسٹ منیجر کو سرعام گن پوائنٹ پہ لوٹ لیا گیا جو انتہاٸی افسوس کا مقام ہے،
ٹرسٹ منیجر کیساتھ پیش آنے والی واردات کی بھی ایف آٸی آر درج کروالی گئی ہے۔ممتاز سماجی رہنما صارم برنی
نے کہا کہ اخر کب تک لوٹ مار کا یہ سلسلہ چلتا رہے گا اور کب تک قانون نافذ کرنے
والے ادارے اپنی آنکھوں پر پٹیاں باندھ کر رکھیں گے۔؟ امن و امان کے قیام میں ناقص
کارردگی قانون نافذ کرنے والے اداروں پر سوالیہ نشان ہے۔۔؟ ممتاز سماجی رہنما صارم
برنی نے آٸی جی سندھ، ایڈیشنل آٸی جی کراچی اور ڈی جی رینجرزسندھ سے مطالبہ کرتے ہوٸے کہا
کہ ٹرسٹ کے شہر بھر میں موجود تمام دفاتر اور شیلٹرز ہوم کو سیکورٹی فراہم کرنے کے
لیے پولیس اور رینجرز کی موباٸل دی جاٸے یا باقاعدہ پکٹ بناٸی جاٸے تاکہ انسانیت کی
خدمت کرنے والوں کو انسانیت کی خدمت کا بھرپور موقع مل سکے۔
