وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ امریکا سے امداد حاصل کرنے کے خواہش مند نہیں بلکہ باہمی اعتماد، برابری اور دوستی کی بنیاد پر تعلقات استوار کرنا چاہتے ہیں۔
امریکی تھنک ٹینک سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کا بڑا مسئلہ غربت ہے ہم تجارت بڑھا کر غربت کا خاتمہ کرسکتے ہیں، ہماری حکومت بھارت سمیت تمام ہمسایہ ممالک سے اچھے تعلقات قائم کرنے کی خواہاں ہیں لیکن مسئلہ کشمیر پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں رکاوٹ ہے جب بھی ہم سنجیدگی سے بات چیت کے لیے آگے بڑھتے ہیں تو بدقسمتی سے کشمیر میں کوئی نہ کوئی افسوسناک واقعہ ہو جاتا ہے، بھارت بات چیت کے لیے ایک قدم آگے بڑھائے گا تو ہم دو قدم آگے بڑھائیں گے۔
وزیراعظم نے کہا کہ نائن الیون میں کوئی پاکستانی ملوث نہیں تھا ،دہشتگردی کے خلاف پاکستان نے 70ہزار جانوں کی قربانی دی ، افغانستان میں امن کے لیے پاکستان نے بھاری قیمت ادا کی، پہلے بھی کہا تھا کہ افغان مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں لیکن اس وقت لوگوں کو یہ سمجھ نہیں آرہی تھی اب لوگوں کو آئیڈیا ہوا ہے کہ افغان مسئلے کا حل صرف اور صرف بات چیت میں ہے،افغانستان میں امن کے لیے یہ بہترین وقت ہے ،یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستانی حکومت، فوج اور امریکی حکام ایک پیج پر ہیں ، افغان طالبان امریکا کےساتھ مذاکرات کررہےہیں، بہت جلد امن معاہدے کاامکان ہے یہ کام آسان نہیں تاہم سب کو اس مقصد کے لیے اپنا کردار ادا کرنا پڑے گا۔
